Posts

Showing posts from December, 2020

بریکنگ_نیوز

Image
#بریکنگ_نیوز  مفتی منیب الرحمن کو چیئرمین رویت ہلال کمیٹی سے ھٹا دیاگیا بادشاہی مسجد کے امام مفتی عبدالخبیر ازاد کو نیا رویت ہلال کمیٹی چیئرمین بنا دیا۔۔

بچہ جمورہ گھوم جا

Image
 ایک شخص نے کابل کے بادشاہ سے کہا کہ میں آپ کو ایک ایسی توپ بنا کر دیتا ہوں جو یہاں سے دہلی کو تباہ کر دے گی۔ بادشاہ نے وذارت خزانہ کو اس شخص کو توپ کی تیاری کےلئے فنڈز جاری کرنے کی ہدایات کر دی۔ خیر کئی دن کی محنت کے بعد توپ تیار ہو گئی اور بادشاہ کو مطلع کر دیا دیا گیا ، ایک دن بادشاہ کے سامنے اس کا مظاہرہ رکھا گیا ، بادشاہ سلامت تشریف لائے توپ میں گولا ڈال کر فائر کیا گیا زبردست دھماکہ ہوا۔ ہر طرف دُھوئیں مٹی کے بادل چھا گئے اور لوگوں کی چیخ و پکار کی آوازیں بھی آنے لگی۔ جب یہ بادل کچھ چَھٹے تو پتا چلا کہ اس دھماکے سے خود وہ توپ ہی اُڑ گئی تھی۔ بادشاہ نے غصے سے اس کاریگر کی جانب دیکھا تو وہ خود کراہتے ہوئے فوراً کورنش بجا لایا اور بولا، دیکھا بادشاہ سلامت جب یہاں اتنی تباہی ہوئی ہے تو دہلی کا کیا حال ہوا ہو گا۔ امریکہ کے بعد اگلا سپر پاور پاکستان ہو گا۔ علی محمد خان🤣

حماقتوں کا ٹیسٹ میچ

 جاوید چوھدری کا کالم "حماقتوں کا ٹیسٹ میچ"....   دریا پوٹامک واشنگٹن میں بہتا ہے‘ آپ اگر کبھی واشنگٹن جائیں اور دریا کے کنارے سیر کریں تو آپ کو تاحد نظر چیری کے درخت ملیں گے‘ یہ درخت بہار کے موسم میں پھول دیتے ہیں اور کمال کر دیتے ہیں‘ آپ کو اپنی نگاہوں کے آخری کنارے تک پھول ہی پھول دکھائی دیں گے‘ بہار میں دریا کے کنارے بھی مہک اٹھتے ہیں‘ چیری کے پھول اور مہک کا یہ دور ”چیری بلاسم“ کہلاتا ہے‘ لاکھوں سیاح ہر سال یہ بلاسم دیکھنے واشنگٹن آتے ہیں‘ یہ دریا کے کنارے واک کرتے ہیں اور پھولوں کی مہک سانسوں کی مالا میں پروتے ہیں۔ یہ درخت اور یہ پھول بظاہر عام دکھائی دیتے ہیںلیکن ان کے پیچھے سفارت کاری کی ایک انتہائی دل چسپ کہانی ہے‘ کہانی کی جڑیں دوسری جنگ عظیم میں دفن ہیں‘ امریکا نے 1945ءمیں ہیرو شیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے‘ یہ انسانی تاریخ کا خوف ناک ترین واقعہ تھا‘ دو بم گرے اور آن واحد میں اڑھائی لاکھ لوگ ہلاک اور تین لاکھ زخمی ہو گئے‘ جاپان نے ایٹمی حملوں کے فوراً بعد سرینڈر کر دیا یوں امریکا جنگ جیت گیا‘ جاپانیوں نے بعد ازاں امریکا سے ایٹم بموں کا خوب صورت بدلا لیا‘ ج...

کاروان سراۓ

Image
 "کاروان سرائے" پرانے وقتوں میں تجارت اونٹوں کے ذریعے سے ہوا کرتا تھا۔ ایک شہر سے دوسرے شہر تک ایک تجارتی راستہ ہوتا تھا، جس سے  تجارتی کاروان گزرتا تھا۔ مہینے لگ جاتے ایک تجارتی سفر پر۔ اس لئے مسافروں کی سہولت کے لئے ان راستوں پر سرائے بنائے جاتے ہیں۔ جنہیں "کاروان سرائے" کہا جاتا تھا۔ یہاں کوئی بھی مسافر ٹہر کر آرام کرسکتا، اور کھا پی سکتا تھا۔ لیکن کاروان سرائے میں ٹہرنے کے کچھ اصول ہوتے۔ ایک یہ کہ یہاں آنے والے ہر مسافر کو بخوشی قبول کیا جاتا۔ کوئی بھی مسافر ٹکرایا نہ جاتا۔ اور دوسرا یہ کہ مسافر یہاں پر تین دن سے زیادہ ٹہرتا اور نہ ٹہرنے دیا جاتا۔ کیونکہ سفر بھی جاری رکھنا ہوتا تھا۔ مولانا روم، جو ایک مشہور صوفی بزرگ ہیں، فرماتے ہیں۔ کہ انسان کی مثال اسی "کاروان سرائے" کی طرح ہے۔ اور انسان پر گزرنے والے حالات و خیالات کی مثال مسافروں کی سی ہے۔ اس لئے، چاہے غم ہو یا خوشی، دکھ ہو یا سکھ، تکلیف ہو یا راحت ۔۔۔۔ ان سب کو اپنے قلب کے سرائے میں بخوشی قبول کرلینا چاہیے۔ یہ سب آپ کے مہمان ہیں۔ چند دن رہیں گے۔ اور گزر جائینگے۔ اگر راحت آپ کے سرائے میں چند دن قیا...

سلام مفتی کفایت اللہ

Image
میں 🌻مفتی کفایت اللہ صاحب🌻 کو 🌺سلام 🌺پیش کرتاہوں ان کی جرات کو سلام پیش کرتا ہوں ان پر ھر قسم کا دباؤ ڈالا گیا ھر طرح کی آفر دی گئی لیکن مفتی صاحب نے جماعت سے اپنی وفاداری تبدیل نہیں کی یہاں تک کے کئی بار جیل میں ڈالا گیا حملے تک ہوئے لیکن مفتی صاحب ثابت قدم رہے ۔۔ 🌺سلام مفتی صاحب سلام🌺