کاروان سراۓ
"کاروان سرائے"
پرانے وقتوں میں تجارت اونٹوں کے ذریعے سے ہوا کرتا تھا۔ ایک شہر سے دوسرے شہر تک ایک تجارتی راستہ ہوتا تھا، جس سے تجارتی کاروان گزرتا تھا۔ مہینے لگ جاتے ایک تجارتی سفر پر۔ اس لئے مسافروں کی سہولت کے لئے ان راستوں پر سرائے بنائے جاتے ہیں۔ جنہیں "کاروان سرائے" کہا جاتا تھا۔ یہاں کوئی بھی مسافر ٹہر کر آرام کرسکتا، اور کھا پی سکتا تھا۔ لیکن کاروان سرائے میں ٹہرنے کے کچھ اصول ہوتے۔ ایک یہ کہ یہاں آنے والے ہر مسافر کو بخوشی قبول کیا جاتا۔ کوئی بھی مسافر ٹکرایا نہ جاتا۔ اور دوسرا یہ کہ مسافر یہاں پر تین دن سے زیادہ ٹہرتا اور نہ ٹہرنے دیا جاتا۔ کیونکہ سفر بھی جاری رکھنا ہوتا تھا۔
مولانا روم، جو ایک مشہور صوفی بزرگ ہیں، فرماتے ہیں۔ کہ انسان کی مثال اسی "کاروان سرائے" کی طرح ہے۔ اور انسان پر گزرنے والے حالات و خیالات کی مثال مسافروں کی سی ہے۔
اس لئے، چاہے غم ہو یا خوشی، دکھ ہو یا سکھ، تکلیف ہو یا راحت ۔۔۔۔ ان سب کو اپنے قلب کے سرائے میں بخوشی قبول کرلینا چاہیے۔ یہ سب آپ کے مہمان ہیں۔ چند دن رہیں گے۔ اور گزر جائینگے۔
اگر راحت آپ کے سرائے میں چند دن قیام کرنے آئے، تو اسے مسافر ہی سمجھے۔ اس کی خاطر کریں، اور رخصتی پر الوداع کہہ دیں۔
اگر تکلیف تشریف لائیں، ان کا بھی خندہ پیشانی سے استقبال کریں۔ بلکہ ان سے کہے ۔۔۔۔ آئیے! آپ ہماری خاص مہمان ہیں۔ کیونکہ آپ مستقل تشریف لاتی ہیں۔ لیکن بحرحال ! یہ مہمان پر چھوڑ کر چلا ہی جاتا ہے۔
یوں قافلے گزرتے رہینگے۔ کچھ مہمان آئیں گے۔ اور کچھ چلے جائیں گے۔ لیکن جب تک تجارت ہوتا رہے گا، تب تک آپ کو اپنے سرائے کا دروازہ کھلا رکھنا ہوگا۔
کیونکہ یہی اصول ہے کاروان سرائے کا۔

Comments
Post a Comment